sponsor

sponsor

Slider

آمدورفت

آرکائیو

دی بنک آف چائنا ٹاور کہاں واقع ہے؟

Budaya

Linear

kelvinjay کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

Daya

Liner

Recent Tube

" });

Wisata

News Scroll

Favourite

Event

Culture

Gallery

یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔۔







ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ خوشحالی کے دن تھے۔ ایک دن بادشاہ کی ملاقات ایک درویش صفت بزرگ سے ہوئی، بزرگ بہت نیک اور پرہیزگار تھے۔ بادشاہ اُن سے بہت عزت سے پیش آیا اور ملاقات کے آخر میں اس نے فرمائش کی کہ مجھے کوئی ایسی چیز، تعویز، وظیفہ وغیرہ لکھ کر دیں جو انتہائی مشکل میں میرے کام آئے۔ بزرگ خاموش رہے لیکن بادشاہ کا اصرار بڑھا تو انہوں نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر کچھ لکھ کر دیا اور کہا کہ اس کاغذ کو اُسی وقت کھولنا جب تم سمجھو کہ بس اب اس کے آگے تم کچھ نہیں کر سکتے یعنی انتہائی مشکل میں۔




قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اس ملک پر حملہ ہو گیا اور دشمن کی فوج نے بادشاہ کی حکومت کو الٹ پلٹ کے رکھ دیا۔ بادشاہ کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے اور وہ بھاگ کر کسی جنگل میں ایک غار میں چھپ گیا۔ دشمن کے فوجی اس کے پیچھے تھے اور وہ تھک کر اپنی موت کا انتظار کر رہا تھا کہ اچانک اس کے ذہن میں درویش بابا کا دیا ہوا کاغذ یاد آیا، اس نے اپنی جیبیں ٹٹولیں، خوش قسمتی سے وہ اس کے پاس ہی تھا۔ سپاہیوں کے جوتوں کی آہٹ اسے قریب آتی سنائی دے رہی تھی، اب اس کے پاس کاغذ کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب اس نے وہ کاغذ کھولا تو اس پر لکھا تھا "یہ وقت بھی گزر جائے گا۔۔۔!"




بادشاہ کو بہت غصہ آیا کہ بزرگ نے یہ کیا کھیل کھیلا ہے، کوئی اسمِ اعظم ہوتا یا کوئی سلیمانی ورد!۔ ۔ ۔ لیکن افسوس وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے تحریر کو دوبارہ پڑھا، سہہ بارہ پڑھا۔۔۔۔  کچھ دیر تو بادشاہ سوچتا رہا، غور کرتا رہا کہ کیا کرے پھر آخر اس نے اپنی تلوار اٹھائی اور سپاہیوں کا انتظار کرنے لگا۔ سپاہی آئے، اس نے مقابلہ کیا ا ور وہ بچ نکلا۔





اس کے بعد ایک لمبی داستان ہے کہ وہ کس طرح کسی دوسرے ملک میں گیا، وہاں اس نے اپنی فوج کو اکٹھا کیا، اسے ہتھیاروں سے لیس کیا اور آخر کار ایک وقت آیا کہ اس نے اپنا ملک واپس لے لیا اور پھر سے اپنے تخت پہ جلوہ نشیں ہوا۔ اس کی بہادری کے قصے دور دور تک مشہور ہو گئے اور رعایا میں اس کا خوب تذکرہ ہوا۔ اس کے دربار میں اور دربار سے باہر بھی لوگ صرف اپنے بہادر بادشاہ کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اتنا بول بالا دیکھ کر بادشاہ کے دل میں غرور پیدا ہوا اور وہ اپنی شجاعت پر اور سلطنت پر تھوڑا مغرور ہوا ہی تھا کہ اچانک اس کے دل میں بزرگ کا لکھا ہوا فقرہ آیا کہ "یہ وقت بھی گزر جائے گا" ۔ ۔ ۔ ۔!!


ایک عرب بدو کا خلیفہ مامون الرشید سے مکالمہ











عباسی خلیفہ مامون الرشید خرسان سے حج کے لیے مکہ مکرمہ جارہے تھے۔ طوس کے مقام پر اسے ایک شخص ملا۔ کہنے لگا: " اے خلیفہ! میں ایک بدو ہوں۔" مامون یہ سن کر کہنے لگے: "کوئی تعجب کی بات نہیں۔"





یہ سن کر وہ شخص کہنے لگا: "میں حج کے لیے جانا چاہتاہوں۔" مامون کہنے لگے: "اللہ کی زمین وسیع ہے، بڑی خوشی سے جاؤ۔" اس پر بدو کہنے لگا: " میرے پاس زادِ راہ نہیں ہے۔" مامون الرشید نے کہا: "تب تو تجھ پر حج فرض نہیں ہوتا۔" بدو بولا: "امیر المومنین! میں آپ سے کچھ انعام لینے آیا ہوں، فتوی تو نہیں پوچھنے آیا۔"





مامون الرشید ہنس پڑے اور اسے انعام دینے کا حکم دیا۔ 


سلطان محمود غزنوی








محمود غزنوی 998ء میں غزنی کے سلطان کی حیثیت سے تخت نشین ہوئے۔ اُس زمانے میں غزنی کا علاقہ سامانیوں کے زیر تسلط تھا۔ سامانی، شمال مشرقی ایران سے آئے تھے اور انہوں نے چین سے لیکر خلیج فارس تک ایک وسیع سلطنت قائم کر لی تھی۔ محمود نے انہیں سامانیوں کی ماتحتی سے آزادی حاصل کی پھر آس پاس کی ریاستوں کو نیچا دکھا کے غزنی کی حکومت کو کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ یہ عباسی خلفاء کا دور تھا۔ اگرچہ تمام سلاطین اور حکمران اپنے اپنے علاقوں میں خود مختار تھے لیکن کمزور خلافت عباسیہ کے باوجود تقریباً سب کے سب خلیفہ کی اطاعت کا دم بھرتے تھے اور خطبہ میں اُس کا نام لیا جاتا تھا۔ عباسی خلیفہ کو محمود کی فتوحات کا حال معلوم ہوا تو خراسان کی حکومت کا پروانہ اور خلعت بھیجا۔ یمین الدولہ امین الملۃ کا خطاب بھی دیا۔ چنانچہ آگے چل کے محمود کے خاندان نے یمینی خاندان کے نام سے شہرت پائی۔ 





یہ وہ وقت تھا جب ہندو راجاؤں کا ایک خاندان جو ہندو شاہی کہلاتا تھا، پنجاب پر حکومت کرتا تھا۔ محمود کے والد امیر سبکتگین کی حکومت کے زمانے میں اِس خاندان کے ایک راجہ جے پال نے بہت سے ہندو راجاؤں کو ساتھ لے کر کابل پر چڑھائی کی۔ لیکن شکست کھائی اور خراج ادا کرنے کا وعدہ کرکے لوٹا۔ گھر پہنچ کر اُس کی نیت ڈانواں ڈول ہوگئی۔ اب کے پھر سبکتگین سے معرکہ ہوا۔ جس میں جے پال نے پھر شکست کھائی۔ محمود ان معرکوں میں والد کے ساتھ ساتھ رہا تھا۔ اور ہندو شاہیوں کی طاقت کو اچھی طرح آزما چکا تھا۔ والد کی وفات کے بعد جب اُسے اندرونی جھگڑوں سے اطمنان نصیب ہوا اور غزنی میں اس کے قدم اچھی طرح جم گئے تو اُس نے ہندوستان پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کیا اور سترہ حملے کرکے اس سرزمین میں ہل چل ڈال دی۔ جے پال کا جانشین انند پال بڑے لاؤلشکر کے ساتھ محمود کا راستہ روکنے آیا۔ کئی راجپوت راجاؤں نے اُس کی مدد کی لیکن محمود نے انہیں ایسی شکست دی کہ وہ اسے راستہ دینے پر مجبور ہوگئے۔ چنانچہ وہ سرکش راجپوتوں کو نیچا دکھاتا جنگلوں اور پہاڑوں کے جنگجو قبیلوں کو دباتا وادئ گنگا جا پہنچا۔ 





محمود غزنوی نے وادئ گنگا پر پورے زور سے پہلے مرتبہ جو حملہ کیا، اُس میں قنوج، بلند شہر، متھرا، اٹاوہ، میرٹھ کے علاوہ کئی اور چھوٹے بڑے شہر فتح ہوئے۔ ان شہروں اور ان کے مندروں سے وہ بے شمار دولت سمیٹ کے غزنی لے گیا۔ اِس موقع پر اُسے جو کامیابی حاصل ہوئی تھی اس کی وجہ سے سارے عالم اسلام میں اُس کی بہادری اور اولوالعزمی کی دھاک بیٹھ گئی اور جابجا اس کا نام بڑی عزت سے لیا جانے لگا۔





ہندو شاہیوں اور دوسرے راجاؤں نے مل کر ایک جتھا بنایا اور محمود غزنوی کا راستہ روکنے کا منصوبہ بنایا۔ جب محمود کو خبر ملی تو وہ لشکر لے کر مقابلے کے لیے روانہ ہوا۔ ہندوشاہیوں کے دلوں پر محمود کی ایس ہیبت چھائی ہوئی تھی کہ جب اس کی فوج سیلاب کی طرح ہندوکش کے پہاڑوں سے اُترا تو یہ جتھہ خودبخود ٹوٹ گیا اور کسی کو اُس کا راستہ روکنے کی ہمت نہ ہوئی۔





محمود غزنوی کا سب سے بڑا کانامہ سومناتھ کی فتح ہے۔ سومناتھ، گجرات کاٹھیاوار کے علاقے میں سمندر کے کنارے واقع ہے۔ یہاں ایک مشہور مندر تھا جس کی یاترا کو دور دور سے لوگ چلے آتے تھے۔ غزنی سے گجرات کافی دور تھا۔ راستے میں ہر طرف لق و دق میدان اور سنسان ریگستان پھیلے ہوئے تھے جن میں دور تک نہ پانی کا پتہ چلتا تھا اور نہ کہیں ہریالی تھی۔ محمود سفر کی صعوبتوں کی پروا کئے بغیر فوج لیکر یلغار کرتا ہوا چلا۔ راجپوت راجہ ہر طرف سے سمٹ کے یہاں جمع ہوگئے تھے۔ فوجوں کا تانتا بندھا ہوا تھا لیکن محمود نے اس طرح جھپٹ جھپٹ کے حملے کئے کہ راجپوتوں کی فوج تتر بتر ہوگئی۔ اس فتح میں ان گنت دولت ملی۔ سومناتھ کا بت بھی ہاتھ آیا۔ چنانچہ اس کامیابی پر اسلامی ملکوں میں جابجا بڑی خوشیاں منائی گئیں۔ 





(از: تاریخ ہند و پاکستان - ریاض الاسلام)


میرے بتانے کی کیا ضرورت ہے؟








ایک دن ملا نصرالدین منبر پر وعظ کرنے پہنچ گئے اور حاضرین سے پوچھا۔ کیا تم کو خبر ہے کہ میں تمہیں کیا سنانے والا ہوں؟ لوگوں نے کہا: ہمیں کوئی خبر نہیں۔ ملا نصرالدین یہ سن کے منبر سے اترے اور کہنے لگے کہ میں تم جیسے بے خبر لوگوں کو کیا بتاؤں جن کو کچھ خبر نہیں۔ 





دوسرے دن ملا نصر الدین پھر منبر پر پہنچے اور کہنے لگے، کیا تم کو خبر ہے کہ میں تمہیں کیا سنانا چاہتا ہوں؟ پہلے دن کے تجربے سے لوگ کہنے لگے کہ ہاں ہمیں خبر ہے۔ ملا یہ سن کر منبر سے اترے اور کہا کہ جب تمہیں پہلے ہی پتہ ہے تو میرے بتانے کی کیا ضرورت ہے۔ 





تیسرے دن وہ پھر منبر پر پہنچ گئے اور وہی سوال دوبارہ دہرایا، لوگ چونکہ دو روز کے جوابات سے تنگ آچکے تھے اس لیے کچھ لوگوں نے کہا کہ خبر ہے اور کچھ کہنے لگے کہ ہم نہیں جانتے۔ ملا نصرالدین یہ سن کر منبر سے اترے اور کہنے لگے: جنہیں خبر ہے وہ دوسروں کو بھی بتا دیں، میرے بتانے کی کیا ضرورت ہے۔





غلافِ کعبہ : تاریخ کے آئینے میں





1962ء میں غلاف کی تیاری کی سعادت پاکستان کے حصے میں بھی آئی۔ 



کعبة اللہ پر غلاف چڑھانے کی رسم بہت پرانی ہے خانہ کعبہ پر سب سے پہلے غلاف حضرت اسماعیل نے چڑھایا تھا۔ ظہو ر اسلام سے قبل بھی حضور اکرمﷺ کا خاندان مکہ مکرمہ میں بہت عزت واحترام سے دیکھا جاتا تھا‘ آپﷺکے جدامجد بھی تمام قبائل میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے‘ انہوں نے بڑی سمجھداری اور فراست سے کام لیتے ہوئے غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے خصوصی بیت المال قائم کیا تاکہ تمام قبائل اپنی حیثیت کے مطابق غلاف کعبہ کی تیاری میں حصہ لے سکیں۔ فتح مکہ کی خوشی پر حضور اکرمﷺ نے یمن کا تیار کیا ہوا‘ سیاہ رنگ کا غلاف اسلامی تاریخ میں پہلی بار چڑھانے کا حکم دیا۔ آپﷺ کے عہد میں دس محرم کو نیا غلاف چڑھایا جاتا تھا‘ بعد میں یہ غلاف عیدالفطر کو اور دوسرا دس محرم کو چڑھایا جانے لگا۔ بعدازاں حج کے موقع پر غلاف کعبہ چڑھانے کا سلسلہ شروع ہو گیا‘ 9اور 10ہجری میں بھی آپﷺ نے حجتہ الوداع فرمایا تو غلاف چڑھایا گیا۔





اس زمانے سے آج تک ملت اسلامیہ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ غلاف خوبصورت اور قیمتی کپڑے سے بنا کر اس پر چڑھاتے ہیں۔ حضور اکرمﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے دور میں مصری کپڑے کا قباطی غلاف چڑھایا کرتے تھے۔ سیدنا عمر فاروق پہلے پرانا غلاف اتار کر زمین میں دفن کر دیا کرتے تھے لیکن بعد میں اسکے ٹکڑے حجاج اور غربا میں تقسیم کر دیئے جاتے۔ آج کل یہ ٹکڑے اسلامی ممالک کے حکمرانوں اور اہم شخصیات کو تحفہ میں دیئے جاتے ہیں۔حضرت عثمان غنی اسلام کی پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے پرانے غلاف پر غلاف چڑھایا اور سال میں دو مرتبہ کعبہ پر غلاف چڑھانے کی رسم ڈالی۔





بنو عباس نے اپنے 500 سالہ دور حکومت میں ہر سال بغداد سے غلاف بنوا کر مکہ مکرمہ روانہ کئے۔ عباسیوں نے اپنے دور حکومت میں غلاف کعبہ کی بنوائی میں خصوصی دلچسپی لی اور اسکو انتہائی خوبصورت بنایا۔ خلیفہ ہارون الرشید نے سال میں 2 مرتبہ اور مامون الرشید نے سال میں تین مرتبہ غلاف کعبہ کو تبدیل کرنے کا اہتما م کیا۔ مامون الرشید نے سفید رنگ کا غلاف چڑھایا تھا‘ خلیفہ الناصر عباس نے پہلے سبز رنگ کا غلاف بنوایا لیکن پھر اس نے سیاہ ریشم سے تیار کروایا‘ اسکے دور سے آج تک غلاف کعبہ کا رنگ سیاہ ہی چلا آرہا ہے البتہ اوپر زری کا کام ہوتا ہے۔140ھ سے غلاف پر لکھائی شروع ہوگئی جو آج تک جاری ہے ۔





761 ہجری میں والی مصر سلطان حسن نے پہلی مرتبہ کعبہ کے بارے میں آیات قرآنی کو زری سے کاڑھنے کا حکم دیا۔ 810 ہجری میں غلاف کعبہ بڑے خوبصورت انداز میں جاذب نظر بنایا جانے لگا‘ جیسا کہ آج بھی نظر آتا ہے۔ محمود غزنوی نے ایک مرتبہ زرد رنگ کا غلاف بھیجا۔ سلمان دوم کے عہد حکومت تک غلاف مصر سے جاتا تھا‘ جب اس رسم میں جاہلانہ باتیں شامل کرلی گئیں تو سعودیہ عرب سے مصریوں کے اختلافات بڑھ گئے اور مصریوں کا تیار کردہ غلاف لینے سے انکار کر دیا گیا۔ شریف حسین والی مکہ کے تعلقات مصریوں سے 1923ء میں خراب ہوئے چنانچہ مصری حکومت نے غلاف جدہ سے واپس منگوا لئے۔





1927ءمیں شاہ عبد العزیز السعود نے وزیر مال عبداللہ سلیمان المدن اور اپنے فرزند شہزادہ فیصل کو حکم دیا کہ وہ غلاف کعبہ کی تیاری کےلئے جلدازجلد ایک کارخانہ قائم کریں اور 1346 ہجری کےلئے غلاف کی تیاری شروع کر دیں چنانچہ انہوں نے فوری طور پر ایک کارخانہ قائم کرکے ہندوستانی کاریگروں کی نگرانی میں غلاف کی تیاری شروع کر دی اور یوں سعودیہ کے کارخانے میں تیار ہونیوالا یہ پہلا غلاف کعبہ تھا۔ مکہ میں قائم ہونیوالی اس فیکٹری کا نام ”دارالکسوہ“ ہے۔غلاف میں 150کلو سونے اور چاندی کا استعمال کیا جاتا ہے۔





(بشکریہ: فضل حسین اعوان-نوائے وقت)


بیٹیاں! ان کی قدر کرو، یہ آبگینے بڑے نازک ہیں








وہ بیٹیاں تم جس کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دے دو،وہ اُف کئے بغیرتمہاری پگڑیوں اور داڑھیوں کی لاج رکھنے کے لئے ان کے ساتھ ہو لیتی ہیں ،سسرال میں جب میکے کی یاد آتی ہے تو چھپ چھپ کر رو لیتی ہیں،کبھی دھوئیں کے بہانے آنسو بہا کر جی ہلکا کر لیا ،آٹا گوندھتے ہوئے آنسو بہتے ہیں وہ آٹے میں جذب ہو جاتے ہیں ،کوئی نہیں جانتا کہ ان روٹیوں میں اس بیٹی کے آنسو بھی شامل ہیں،غیرت مندو! ان کی قدر کرو یہ آبگینے بڑے نازک ہیں۔





 مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری


منٹوں میں چارج اور ہفتوں چلنے والی موبائل فون بیٹریاں







پاکستان میں لوڈشیڈنگ جہاں بہت سے شعبوں میں مالی نقصانات کاسبب بن رہی ہے وہیں یہ رابطے کے ذریعے، موبائل فون پر بھی اثر انداز ہورہی ہے۔ اکثر موبائل صارفین لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اپنے موبائل فون کی بیٹری کو اچھی طرح چارج نہیں کر پاتے اور یوں وہ اپنے کاروباری اور گھریلو روابط سے کچھ وقت کےلئے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔ اگرچہ یوپی ایس اور شمسی توانائی جیسی متبادل ذرائع بھی استعمال ہورہے ہیں لیکن کم پاور اور چارجنگ کا دورانہ بھی مسائل کا باعث بن جاتے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ اب اس مسئلے کا بھی حل آنے والا ہے۔امریکی سائنسدانوں نے نئے تجربوں کے بعد یہ ثابت کیا ہے کہ فون کی ایسی بیٹریاں بنائی جا سکتی ہیں جو منٹوں میں چارج ہوں گی اور ہفتوں تک چلیں گی۔





برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے سلیکون کے ایسے آلات بنائے ہیں جن سے فوری طور پر بیٹری کو چارج کیا جاسکتا ہے۔ٹینیسی کی ونڈربلٹ یونیورسٹی کے شعبہ انجینئرنگ کے سائنسدانوں نے سُپر کیپسیٹر زکے سائز اور اس پر آنے والی لاگت کو کم کرنے کے لیے متعددتجربات کیے ہیں۔سائنسدانوں نے کہا ہے کہ موجودہ بیٹریوں کے مقابلے یہ بیٹریاں نسبتاً زیادہ وقت تک موبائل فون کو توانائی مہیا کرسکے گی۔






سلیکون کے یہ حصے موجودہ چِپ پروڈکشن سسٹم میں بآسانی لگائے جا سکتے ہیں۔ان سستے سُپر کیپسیٹر زسے دوبارہ قابِل استعمال توانائی کے وسائل میں بھی مدد مل سکتی ہے۔کاربن سے بنائے گئے سُپر کیپسیٹر کو پہلے ہی بجلی سے چلنے والی گاڑیوں اور ونڈ ٹربائنز میں توانائی سٹور کرنے کے نظام کے طور پر استعمال کیا جا چکا ہے۔