sponsor

sponsor

Slider

آمدورفت

آرکائیو

دی بنک آف چائنا ٹاور کہاں واقع ہے؟

Budaya

Linear

kelvinjay کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.

Daya

Liner

Recent Tube

" });

Wisata

News Scroll

Favourite

Event

Culture

Gallery

» » فلسفہ حیات





رات کی ساعتیں شعلہ بدامن تھیں۔ فضا پر ہلکی ہلکی لرزش طاری تھی جیسے غیر مرئی روحیں کنج کنج کی سیر کرتی پھر رہی ہوں۔ اس پُرسکوت وقت میں محفل انجم گرم تھی۔ دھیمی دھیمی سر گوشیاں ہورہی تھیں جو بڑھتے بڑھتے شوخ قہقہوں میں تبدیل ہوجاتیں۔





ایکا ایکی ایک ننھے سے شہاب ثاقب نے اپنی جگہ سے حرکت کی گویا کوئی نئی تحریک پیش کرنے لگا ہو۔ لیکن دوسرے ہی لمحےاپنی کپکپاتی ہوئی دنیا سے نیچے کی طرف گرا اور فضاؤں کو چیرتا ہواغائب از نظر ہو گیا جیسے اندھیرے کے سینے پر نشتر چل پڑا ہو۔ اب اس کی ضوفشانی مفقود تھی اور جملہ تابانی نہاں۔





جہان فانی میں ہماری مثال بھی شہاب ثاقب سے کم نہیں۔ آسمان حیات پر ہستی کا نور جگمگاتا رہتا ہے، بڑھتی ہوئی شہرت اسے تاباں کر دیتی ہے اور معصومیت حد امکان تک درخشاں۔





لیکن جب فرشتہ موت کا بلاوا آتا ہے تو اس لطیف نور کو خیر باد کہنا پڑتا ہے اور جملہ دلچسپیوں کو الوداع۔





ہستی قبر کی گہرائی میں پنہاں ہوجاتی ہے جیسے کوئی ستارہ آسمان سے ٹوٹے اور زمین پر پہنچتا پہنچتا فضا میں گھل کر رہ جائے۔۔۔۔۔ اس کے باوجود لوگ زندگی کو اس قدر اہم سمجھتے ہیں۔ 





(کلیاتِ خلیل جبران)



«
Next
جدید تر اشاعت
»
Previous
قدیم تر اشاعت

کوئی تبصرے نہیں:

Leave a Reply